دونوں صورتیں ممکن ہیں، یہ مقدمے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ آرٹیکل 15 ادارہ تفتیش و عامہ استغاثہ کو عدالتوں کے سامنے فوجداری مقدمات شروع کرنے اور چلانے کا بنیادی اختیار دیتا ہے۔ تاہم، آرٹیکل 16 مجنی علیہ کو — یا وفات کی صورت میں اس کے ورثاء کو — حقِ خصوصی (یعنی ایسے جرائم جن میں کوئی فرد براہِ راست متاثر ہو، جیسے زدوکوب، فراڈ، یا چوری) سے متعلق مقدمات میں خود مستقل طور پر فوجداری کارروائی شروع کرنے کا حق بھی دیتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ آرٹیکل 17 کے مطابق حقِ خصوصی سے متعلق جرائم میں مجنی علیہ یا اس کے نمائندے کی شکایت کے بغیر تفتیش یا کارروائی کا آغاز ہی نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک غیر ملکی مجنی علیہ کی حیثیت سے آپ کی باضابطہ شکایت ہی قانونی عمل کو شروع کرنے کا محرک ہے — اس کے بغیر حکام کارروائی نہیں کر سکتے۔
شکایت درج کرانے کے لیے قریبی پولیس اسٹیشن یا ادارہ تفتیش و عامہ استغاثہ کے دفتر جائیں۔ اپنے پاس موجود تمام شواہد، بشمول تصاویر، دستاویزات اور گواہوں کی معلومات، ساتھ لے جائیں۔ اگر آپ کی عربی محدود ہے تو مترجم ساتھ لے جانے پر غور کریں۔ ایک بار مقدمہ عدالت میں باضابطہ طور پر درج ہو جائے تو آرٹیکل 5 کے مطابق فیصلے سے پہلے اسے واپس یا منتقل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے شکایت دائر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورت حال کے لیے مشورہ لینے کے لیے، سعودی عرب میں لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔