جی ہاں۔ سعودی ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 4 میں صراحت کے ساتھ درج ہے کہ ملزم تفتیش کے مرحلے اور سماعت دونوں کے دوران اپنا دفاع کرنے کے لیے کسی وکیل یا نمائندے سے مدد لے سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قانونی نمائندگی کا آپ کا حق تفتیش کے آغاز ہی سے شروع ہو جاتا ہے — آپ کو عدالت میں پیش ہونے تک انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
غیر ملکی مقیمین کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اگر آپ سے پوچھ گچھ کی جائے یا آپ پر الزام لگایا جائے تو جلد از جلد سعودی لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔ زبان کی رکاوٹیں اور مقامی قانونی طریقہ کار سے ناواقفیت پیشہ ورانہ نمائندگی کو خاص طور پر اہم بنا دیتی ہیں۔ آپ کا سفارت خانہ ایسے وکلاء کی فہرست فراہم کر سکتا ہے جو غیر ملکی شہریوں کے مقدمات سنبھالتے ہیں۔
اگر آپ فوری طور پر وکیل کا انتظام کرنے یا اسے برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں، تو یہ یقینی بنائیں کہ آپ کو معلوم ہے کہ کارروائی آگے بڑھنے سے پہلے آپ وکیل کے حقدار ہیں۔ آرٹیکل 4 میں یہ بھی درج ہے کہ اس قانون کے نفاذی ضوابط میں ملزم کے مزید حقوق بیان کیے گئے ہیں، چنانچہ ایک اہل وکیل آپ کو حاصل تحفظات کی مکمل تفصیل سے آگاہ کر سکتا ہے۔
یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورت حال کے لیے مشورہ لینے کے لیے، سعودی عرب میں لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔