جی ہاں۔ سعودی ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 16 کے تحت، مجنی علیہ (متاثرہ فریق) — یا اس کا نمائندہ — نجی حق سے متعلق مقدمات میں خود فوجداری کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ آپ کو تحقیقات اور عوامی مدعی کے دفتر کے اقدام کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں؛ آپ خود مختص عدالت کے سامنے مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔
تاہم، جن جرائم میں خاص طور پر نجی حقوق شامل ہوں (خالصتاً عوامی جرائم کے برعکس)، آرٹیکل 17 یہ واضح کرتا ہے کہ متاثرہ فریق یا اس کے مجاز نمائندے کی باقاعدہ شکایت کے بغیر کوئی فوجداری تحقیقات شروع نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ متاثرہ فریق ہیں، تو آپ کی شکایت محض ایک رسمی کارروائی نہیں — بلکہ یہ پوری تحقیقات کے آغاز کے لیے لازمی شرط ہو سکتی ہے۔
بطور غیر ملکی مقیم متاثرہ فریق، آپ کو قریبی پولیس اسٹیشن یا تحقیقات و عوامی مدعی کے دفتر میں شکایت درج کرانی چاہیے۔ اپنی شناخت، دستیاب شواہد (تصاویر، دستاویزات، گواہوں کی تفصیلات) ساتھ لائیں، اور اس عمل میں رہنمائی کے لیے کسی مقامی وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر غور کریں۔ آرٹیکل 18 کے تحت یہ بھی جان لیں کہ اگر آپ اور آپ کے نمائندے کے درمیان کوئی تضادِ مفاد پیدا ہو، تو عدالت اس نمائندے کو ہٹا کر دوسرا نمائندہ مقرر کر سکتی ہے — لہٰذا اپنے قانونی نمائندے کا انتخاب احتیاط سے کریں۔
یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورت حال کے لیے مشورہ لینے کے لیے، سعودی عرب میں لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔