جی ہاں۔ آرٹیکل 13 کے تحت سعودی عرب میں ایک معتبر نکاح کے معاہدے کے لیے عورت کے ولی کی جانب سے ایجاب ضروری ہے۔ آرٹیکل 17 ولایت کی ترتیب بیان کرتا ہے: پہلے باپ، پھر اس کا مقرر کردہ وصی، پھر دادا، پھر بیٹا، اور اسی طرح مرد رشتہ داروں کی ترتیب سے۔ آرٹیکل 18 کے مطابق ولی کا مرد ہونا، عقلی طور پر درست ہونا، قانونی بالغ عمر کا ہونا، اور عورت کے ہم مذہب ہونا ضروری ہے۔
ان غیر ملکی خواتین کے لیے جن کا ولی بیرون ملک ہو یا ناقابلِ رسائی ہو، آرٹیکل 19 ایک عملی حل فراہم کرتا ہے: عورت کی درخواست پر عدالت ولایت اگلے اہل ولی کو منتقل کر سکتی ہے، اگر بنیادی ولی موجود نہ ہو سکتا ہو یا اس سے رابطہ ممکن نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک موجود باپ یا رشتہ دار کا لامحدود انتظار ضروری نہیں — عدالت میں درخواست دے کر یہ معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی ولی بلاجواز نکاح میں رکاوٹ ڈال رہا ہو، تو آرٹیکل 20 عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ خود نکاح کروائے یا ولایت کسی اور ولی کو منتقل کر دے۔ اس صورتحال میں غیر ملکی خواتین کو چاہیے کہ ولی سے رابطے کی کوششوں کی دستاویز تیار رکھیں اور فوری طور پر قانونی مشورہ حاصل کریں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ولایت کے یہ قوانین سعودی عرب میں اسلامی پرسنل اسٹیٹس لاء کے تحت ہونے والے نکاحوں پر لاگو ہوتے ہیں؛ غیر مسلم غیر ملکی باشندوں کو چاہیے کہ اپنے حالات سے متعلق مخصوص قوانین کے لیے نفاذی ضوابط (آرٹیکل 8 میں مذکور) کا مطالعہ کریں۔
یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورت حال کے لیے مشورہ لینے کے لیے، سعودی عرب میں لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔