نہیں — آپ کا آجر قانونی طور پر وہ حقوق نہیں چھین سکتا جو سعودی لیبر قانون نے آپ کو ضمانت کے طور پر دیے ہیں۔ دفعہ 8 اس بارے میں بالکل واضح ہے: ملازمت کے معاہدے میں کوئی بھی شرط جو لیبر قانون کی دفعات سے متعارض ہو، خودبخود کالعدم اور باطل قرار پاتی ہے، چاہے آپ نے اس پر دستخط کیے ہوں اور اسے قبول کیا ہو۔
یہ ان غیر ملکی ملازمین کے لیے ایک اہم تحفظ ہے جو ناموافق معاہداتی شرائط قبول کرنے پر دباؤ محسوس کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر معاہدے کی کوئی شق اضافی وقت کی اجرت، سالانہ چھٹی، یا اختتامِ خدمت کے مستحقات کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کرے، تو اس شق کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی، اور آپ قانون کے تحت ان حقوق کے بدستور حقدار ہیں۔
دفعہ 8 ملازمت کے معاہدے کی مدت کے دوران آپ کے قانونی حقوق سے دستبرداری یا ان کے تصفیے کو بھی ممنوع قرار دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا آجر آپ سے معاہدے کے دوران اپنے حاصل شدہ حقوق سے دستبردار ہونے کے لیے نہیں کہہ سکتا۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کے معاہدے کی کوئی شق غیر قانونی ہے، تو آپ قریبی محکمہ محنت (وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی) سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورت حال کے لیے مشورہ لینے کے لیے، سعودی عرب میں لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔