نہیں۔ غیر سعودی افراد کی جائیداد کی ملکیت اور سرمایہ کاری سے متعلق قانون کے آرٹیکل 5 میں ایک واضح اور سخت پابندی موجود ہے: غیر سعودی افراد مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کی شہری حدود میں واقع کسی بھی غیر منقولہ جائیداد پر ملکیتی حقوق، حقِ ارتفاق، یا انتفاعی حقوق نہیں رکھ سکتے۔ یہ پابندی اس سے قطع نظر لاگو ہوتی ہے کہ مقصدِ استعمال ذاتی ہو، تجارتی ہو، یا سرمایہ کاری سے متعلق ہو۔
آرٹیکل 5 کے تحت صرف ایک استثنا تسلیم کیا گیا ہے، اور وہ ہے وراثت — یعنی اگر کوئی غیر سعودی شخص قانونی طور پر ان شہروں میں جائیداد وراثت میں پائے، تو ایسا حصول تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مکہ یا مدینہ میں وراثت میں ملنے والی جائیداد بھی مخصوص قواعد کے تابع ہو سکتی ہے، لہٰذا ایسے معاملات میں قانونی مشاورت انتہائی ضروری ہے۔
آرٹیکل 6 کے تحت نوٹری پبلک اور دیگر مختص ادارے قانونی طور پر ایسی کسی بھی دستاویز کی تصدیق کرنے سے منع ہیں جو اس قانون کے خلاف ہو، لہٰذا کسی تیسرے فریق یا غیر رسمی انتظام کے ذریعے اس پابندی سے بچنے کی کوئی بھی کوشش قانونی حیثیت نہیں رکھے گی اور آپ کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پابندی تمام غیر سعودی افراد پر لاگو ہوتی ہے، قطع نظر مذہب یا قومیت کے۔
یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورت حال کے لیے مشورہ لینے کے لیے، سعودی عرب میں لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔