جی ہاں، سعودی قانون کے تحت گمراہ کن آن لائن اشتہارات کی صریح ممانعت ہے۔ ای-کامرس قانون کی دفعہ 11 کہتی ہے کہ الیکٹرانک اشتہارات میں کوئی بھی جھوٹا بیان، غلط بیانی، یا فریب پر مبنی دعویٰ شامل نہیں ہونا چاہیے — خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ — جو صارفین کو گمراہ کر سکے۔ اس میں مبالغہ آمیز مصنوعاتی دعوے، جعلی رعایتیں، اور دھوکہ دہی پر مبنی تصاویر شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ دفعہ 10 یہ طے کرتی ہے کہ الیکٹرانک اشتہارات کو معاہدے کا حصہ تصور کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیچنے والے نے کسی مصنوع کو مخصوص خصوصیات یا قیمت کے ساتھ اشتہار دیا اور آپ نے اس اشتہار کی بنیاد پر خریداری کی، تو بیچنے والا قانونی طور پر اشتہار میں بیان کردہ شرائط کا پابند ہے۔ اگر موصول شدہ مصنوع اشتہار سے مطابقت نہ رکھتی ہو، تو آپ کو تدارک طلب کرنے کا حق حاصل ہے۔
دفعہ 12 کے تحت، اگر بیچنے والے کو اشتہاری احکامات کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو اسے معیاری جرمانوں سے بڑھ کر اضافی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دفعہ 18 کے تحت جرمانوں میں تنبیہ، مالی جرمانہ، یا آن لائن اسٹور بلاک کرنا (دفعہ 17) شامل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی گمراہ کن سعودی آن لائن اشتہار ملے، تو آپ اسے براہِ راست وزارتِ تجارت کو رپورٹ کر سکتے ہیں، جو دفعہ 16 کے تحت ای-کامرس کا نفاذ کرتی ہے۔
یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورت حال کے لیے مشورہ لینے کے لیے، سعودی عرب میں لائسنس یافتہ وکیل سے رابطہ کریں۔